بنگلورو،6؍اکتوبر(ایس او نیوز) برہت بنگلورو مہا نگر پالیکے کے لئے ریاستی حکومت کی طرف سے انتخابات کو طویل مدت تک ٹالنے کا شاید منصوبہ تیار کرلیا گیا ہے۔ شاید اسی مقصد سے ریاستی حکومت نے برہت بنگلورو مہا نگر پالیکے(بی بی ایم پی) کے وارڈوں کی تعداد میں اضافہ کے لئے نہ صرف حالیہ اسمبلی اجلاس میں قانون پاس کر لیا بلکہ اس قانون پرکرناٹک کے گورنر واجو بھائی والا نے بھی دستخط کرد ئیے ہیں جس کے ساتھ ہی اب ریاستی حکومت پر یہ ذمہ داری ہے کہ بی بی ایم پی کے نئے وارڈوں کی حد بندی کے لئے ایک حد بندی کمیشن قائم کر ے۔ اس قانو ن کے مطابق بی بی ایم پی کے لئے وارڈوں کی تعداد کم از کم 225اور زیادہ سے زیادہ 250تک کردی جائے گی۔ اس کے لئے حکومت نے کرناٹک منسپل قانون میں تیسری ترمیم منظور کی ہے۔ گورنر کے دستخط کے ساتھ ہی اس قانون کونافذ العمل مان لیا گیا ہے۔ حکومت کے منصوبے کے مطابق بی بی ایم پی کے موجودہ وارڈوں کو198سے بڑھا کر 225سے 250تک کیا جائے گا۔ اس کے لئے بنگلورو کے مضافات کے چند مقامات کو شامل کر نے کے ساتھ ساتھ موجودہ وارڈوں کو بھی 40ہزا ر ووٹرس فی وارڈ کے حساب سے از سر نو ترتیب دیا جائے گا۔ اس قانون کے تحت یہ کہا گیا ہے کہ تمام وارڈوں کی حد بندی اور ترتیب اسی انداز سے کی جائے گی کہ وہ ہر اسمبلی حلقہ کی حدوں میں بند رہیں۔کہیں بھی ایک وارڈ دو اسمبلی حلقوں کا حصہ بننے نہ پائے تاکہ ترقیاتی عمل کی موثر نگرانی ہو سکے۔ شہر بنگلورو کے موجودہ 28اسمبلی حلقوں پر مشتمل ان وارڈوں کی ترتیب ممکن ہے اور حکومت کے تازہ منصوبے کے اعتبار سے اگر جائزہ لیا جائے تو وہ اسمبلی حلقہ جہاں ووٹروں کی تعداد کافی زیادہ ہے وہاں پر وارڈوں کی تعداد میں بھاری اِضافہ ممکن ہے جبکہ وہ حلقے جہاں ووٹروں کی تعداد کم ہے وہاں ممکن ہے کہ وارڈوں کی موجودہ تعداد برقرار رہے۔